ابنا: حلب پر قبضہ کے لیے شام کی سرکاری افواج نے شہر میں موجود دہشت گردوں پر بمباری اور فائرنگ کی جس سے پورا شہر لرز اٹھا۔ حکومتی افواج سے لڑنے والے دہشت گردوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی افواج کی پیش قدمی روک دی ہے لیکن اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
شام کے وزیر خارجہ ولید معلم جو کہ اتوار کو ایران کے دورے پر تھے نے کہا کہ باغیوں کو حلب میں شکست دے دی جائے گی۔
اس سے قبل شامی حزب مخالف شامی نیشنل کاؤنسل کے سربراہ نے بیرونی ممالک سے شام کے باغیوں کو مزید مدد پُہچانے کی درخواست کی ہے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عبدالباسط سیدا نے ابوظہبی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب رتے ہوئے کہا ’ہمیں ایسے ہتھیار چاہیں جو ٹینکوں اور جنگی جہازوں کو روک سکیں۔‘ انہوں نے امریکہ نواز عرب حکمرانوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی حمایت جاری رکھیں۔
امریکہ نواز عرب حکمرانوں نے اپریل میں دہشت گردوں کو تنخواہیں ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن شام میں دھکیلے جانے کے بعد یہ حُکمران ان کرائے کے قاتلوں کو قُربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں اور ان سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتے اور شامی فوج کا نشانہ بننے کے بعد اُن کے ہاتھ صرف سعودی مُلاوں کی جنت لگتی ہے جس کا خدا کے علاوہ اُنہوں نے بشار الاسد کے خلاف امریکہ کے کہنے پر جہاد کرنے پر وعدہ کر رکھا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شام میں لڑنے والے باغیوں کو مواصلاتی سازوسامان وغیرہ۔ فراہم کیا ہے۔
اسی طرح عام شہریوں سے بھری گاڑیوں کا شہر سے انخلاء کا سلسلہ بدستور تواتر سے جاری رہے جبکہ وہ شہری جو شہر میں رہ گئے ہیں ان کو بجلی اور خوراک کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے نے چوبیس گھنٹوں کے بعد ایک بیکری کو کھلتے دیکھا جس کو جلد ہی لوگوں نے روٹی کے حصول کے لیے گھیر لیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کھانے کو کچھ نہیں ہے۔
.......
/169